حضرت سلطان باھُوؒ کی نظر میں دل کسے کہتے ہیں اور قلب کسے سمجھا جاتا ہے؟

دل کسے کہتے ہیں اور قلب کسے سمجھا جاتا ہے؟
جان لے کہ زمین کی وسعت آسمان کی وسعت کے مقابلے میں محض ایک قطرہ ہے جملہ آسمان لوحِ محفوظ کی بلندی و فراخی کے مقابلے میں ایک قطرہ ہیں لوحِ محفوظ قلم کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے قلم کرسی کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے کرسی عرشِ اکبر کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے عرشِ اکبر کے بے شمار کنگرے ہیں ہر کنگرے پر کلمۂ طیب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے ہر کنگرے پر ایک قندیل لٹکی ہوئی ہے ہر قندیل میں قدرتِ الٰہی سے زمین و آسمان کے چودہ طبق تہہ در تہہ رکھے ہوئے ہیں ہر طبق میں اٹھارہ ہزار عالم کی مخلوق آباد ہے ہر مخلوق اپنی اپنی زبان سے کلمۂ طیب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ذکر کر رہی ہے عرشِ اکبر اور تمام قندیلیں دل کے مقابلے میں اسپند کے دانے کے برابر ایک قطرہ ہیں
محک الفقر، ص: 255, حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
www.alfaqr.net
www.sultanbahoo.net

(Visited 100 times, 1 visits today)

You might be interested in

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *